
سوات(-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔03 جولائی ۔2026 ) سیف اللہ جھیل کالام میں کشتی حادثے میں لاپتہ خاتون کو ابھی تک تلاش نہیں کیا جاسکا‘ڈپٹی کمشنر اپرسوات سہیل خان کے مطابق آج تیسرے دن بھی سرچ آپریشن جاری ہے تاہم لاپتہ جواں سال لڑکی کو تلاش نہیں کیا جاسکا. ادھر لاہور میں مسلم لیگ نون کی سوشل میڈیا ایکٹویس ثمینہ حفیظ ملک نے اپنے”ایکس“اکاﺅنٹ پر متاثرہ خاندان کی کچھ تصاویر شیئرکی ہیں نون لیگی سوشل میڈیا ورکرخاتون اپنے اکاﺅنٹس پر ڈی ایچ اے کے بارے میں اکثرپوسٹی شیئرکرتی رہتی ہےہےtبتایا گیا ہے ڈی ایچ اے لاہورفیز6کے رہائش خاندان کے سربراہ کرنل ریٹائرڈ عامر اوندل ان کا20 سالہ بیٹا عبداللہ ،27 سالہ بیٹی پروا اوندل ، 23 سالہ بیٹی رویل اوندل ‘پروا اوندل کا ایک سالہ بیٹا اور 5 سالہ بیٹی بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہے اور24 سالہ بشری سموئی کو ابھی تک تلاش نہیں کیا جا سکا جاری اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ خاندان کے افراد اسلام آباد واقع ایک سفارت خانے میں ویزا انٹرویو کے لیے گئے تھے جہاں سے وہ سوات چلے گئے بدھ کا دن ان کے سیاحتی ٹورکا پہلادن اور اسی شام المناک حادثہ پیش آگیا.لاپتہ خاتون کے بارے میں دو روز تک سوات انتظامیہ کی جانب سے بتایا جاتا رہا کہ خاندان کی ایک17سالہ لڑکی لاپتہ ہے تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لاپتہ خاتون کا نام بشری سموئی ہے جن کی عمر24سال کے قریب ہے اور وہ چند روزقبل ہی امریکا سے اپنی تعلیم مکمل کرکے پاکستان پہنچی تھیں‘حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے تاہم جھیل کے وسیع ایریا میں لاپتہ خاتون کو تلاش کرنا ایک مشکل عمل ہے ‘اسسٹنٹ کمشنر کالام کے مطابق جب تک لاش نہیں مل جاتی قانونی طورپر خاتون کا مردہ تصور نہیں کیا جاسکتا اور ہم انہیں اس امید پر تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ممکن ہے وہ زندہ ہوں اور پانی کے بہاﺅ کے ساتھ جھیل کے کسی کنارے تک پہنچ گئی ہوں اس لیے جھیل کے اطراف میں جنگل کے اندر بھی پولیس اور مقامی رضا کار انہیں تلاش کرر ہے ہیں‘مقامی صحافیوں کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے صرف ایک غوط خورکی خدمات حاصل کی ہیں جس کی وجہ سے سرچ آپریشن کامیاب نہیں ہوپارہا.دوسری جانب مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ کمشنر مالاکنڈڈویژن‘ڈپٹی کمشنر لوئرسوات اور ڈی سی اپر سوات سمیت انتظامی امورکے ذمہ دار تمام افسران زمینی حالات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے علم میں ہے کہ کشتی رانی‘زپ لائن‘غیرقانونی لفٹ چیئرسمیت دیگر تفریحی سہولیات فراہم کرنے والے انسانی جانوں کی حفاظت کا کوئی خیال نہیں رکھتے‘ہر سال اس طرح کے حادثات پیش آتے ہیں انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں اور پھر معاملہ اگلے حادثے تک دب جاتا ہے.انہوں نے کہاکہ منتخب نمائندے بھی ساری صورتحال سے آگاہ ہیں مگر ان سہولیات کو ریگولیٹ کرنے ‘حفاظتی انتظامات یقینی بنانے‘ایس او پیزطے کرنے کے لیے قانون سازی نہیں کی جاتی‘ان کے مطابق سیف اللہ جھیل سانحہ کی طرح ماضی میں پیش آنے والے حادثات میں بھی بیوروکریسی خود کو بچانے میں لگ جاتی ہے‘اگر صوبائی حکومت قانون سازی نہ بھی کرئے تو ڈپٹی کمشنر ایک حکم نامے سے تمام ریگولیشن نافذکرسکتے ہیں مگر بدقسمتی ہے کہ سیاحتی علاقے سرکاری افسران کے لیے سونے کی وہ کانیں ہیں جہاں سے وہ اپنی مرضی کے مطابق جتنا چاہیں پیسہ کماتے ہیں.ان کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے تو سیاحتی علاقوں کو اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے اور ایسے حادثات کے بعد ڈرکے مارے سیاح اپنے طے شدہ پروگرام منسوح کردیتے ہیں اور سیاحتی سیزن کی کمائی پر انخصار کرنے والے عام مقامی لوگوں کو شدیدمالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ سیاح نہیں آئیں گے تو کمائی نہیں ہوگی . ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جب سرکاری افسران کے خاندان اور دوست احباب جو سیاحت کے لیے آتے ہیں وہ مقامی تاجروں‘ہوٹل مالکان‘کشتی رانوں وغیرہ کو پیسے نہیں دیں گے اور اگر غلطی سے کوئی ان سے پیسے مانگ لے تو اسے نشان عبرت بنادیا جاتا ہے ایسے میں ضلعی انتظامیہ ریگولیشنز کیسے نافذکرسکتی ہے؟ انہوں نے کہاکہ سرکاری اداروں کی تمام تر سرگرمیاں اس حادثے کے پس منظرمیں جانے تک ہی رہیں گی اس کے بعد حالات دوبارہ ”معمول“پر آجائیں گے اور وہی دیسی ساختہ موٹربوٹس دوبارہ جھلیوں میں چلنا شروع ہوجائیں گی.ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ پورے ملک کے لوکل باڈیزسسٹم میں ٹی ایم اے کا انتظامی سربراہ اگر اسسٹنٹ کمشنر ہوتا ہے تو اس معاملے میں اسسٹنٹ کمشنر کیسے خود کو ٹی ایم اے سے الگ کرسکتا ہے ؟اسسٹنٹ کمشنر انتظامی سربراہ ہے اور یہ ذمہ داری بھی اس پر اور ڈپٹی کمشنر سوات پر عائدہوتی ہے انہیں کم ازکم اس ذمہ داری کو تو قبول کرنا چاہیے. انہوں نے کہاکہ ڈسٹرکٹ پولیس‘ضلعی انتظامیہ سمیت تمام سرکاری محکمے رشوت ستانی میں ملوث ہیں ہوٹل‘ریسٹورنٹس‘تاجر‘ٹرانسپورٹر‘کشتی ران‘زپ لائن آپریٹرزسمیت کوئی بھی کاروبارایسا نہیں جہاں کرپشن نہیں انہوں نے سوات سے کالام جیپ ٹریک کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ جیپ ڈرائیورکیسے سیاحوں کی نجی گاڑیوں کو روک کر انہیں زبردستی جیپیں کرائے پر لینے کے لیے مجبورکرسکتے ہیں؟ ایسے واقعات سیزن کے آغازمیں ہوئے ہیں جس کے بعد سیاحوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی معاملہ خبروں میں آنے پر ضلعی انتظامیہ کو ایکشن لینا پڑا.
Leave a Reply