
لاہور (2 جولائی 2026ء) لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے اغوا، تاوان اور مبینہ جنسی زیادتی کے کیس میں قانونی کارروائی تیز کردی گئی ہے، متاثرہ دونوں غیرملکی خواتین نے کینٹ کچہری لاہور میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر ملزمان کے خلاف اپنا تفصیلی بیان قلمبند کروا دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور پولیس نے سخت سکیورٹی کے حصار میں دونوں غیرملکی متاثرہ خواتین کو کینٹ کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا، عدالت میں دونوں خواتین نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا تفصیلی بیان قلمبند کروایا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق متاثرہ خواتین کی شناخت اسٹیفنی ایڈانا ماؤ اور ایسٹرڈ رابنسن کے نام سے ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں غیر ملکی خواتین نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ ہم پاکستان کی سیر کرنے اور یہاں اپنے دوستوں سے ملاقات کے لیے آئے تھے، لیکن یہاں ہمیں اغواء کرکے محبوس کر دیا گیا، ملزمان کی جانب سے ناصرف حبسِ بے جا میں رکھ کر بیرونِ ملک ہمارے اہلخانہ سے بھاری رقم بطور تاوان مانگی گئی بلکہ انہوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا۔
Leave a Reply